ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ مالیاتی راز داری کو معلومات کے حق پر فوقیت حاصل ہے۔

یہ حکم اس درخواست پر جاری کیا گیا جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ان احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھی، جن میں ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کی، جنہوں نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات پر حکم امتناع جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا حکم جاری، اڈیالہ جیل جانے کی ہدائت

عدالت نے ریمارکس دیے کہ حق معلومات ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ٹیکس دہندگان کی معلومات مالیاتی راز داری کے زمرے میں آتی ہیں۔

سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216 ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق ہے اور یہ شق دیگر تمام قوانین پر بالادست حیثیت رکھتی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے تحت نہ صرف ٹیکس دہندگان کی مالی معلومات بلکہ ان کی شناخت ظاہر کرنا بھی صریحاً قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے مکمل قانونی پابندی عائد ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے سے متعلق احکامات 8 جنوری 2026 اور 3 دسمبر 2025 کو جاری کیے تھے، جنہیں اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *