عالمی توانائی کے شعبے سے جڑے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
توانائی کے شعبے کے معروف ماہر ایڈ ہرس نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ایڈ ہرس کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کرنے والا راستہ آبنائے ہرمز انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس راستے سے گزرنے والے تیل کا آدھا حصہ بھی رک جاتا ہے تو عالمی منڈی میں فوری طور پر قلت پیدا ہو سکتی ہے اور قیمتیں عارضی طور پر بہت زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کی عالمی منڈی میں اس کشیدگی کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مائع قدرتی گیس کی عالمی منڈی میں صرف ایک دن کے اندر قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ یورپی ممالک میں قدرتی گیس کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال نے توانائی کے شعبے میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق گیس پر زیادہ انحصار کرنے والے کئی ممالک اب متبادل توانائی ذرائع کی تلاش میں پٹرولیم مصنوعات کی زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔ اس اچانک اضافی طلب کے باعث عالمی منڈی میں آئندہ آرڈرز اور سپلائی کے نظام پر دباؤ بڑھنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس دونوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو نہ صرف عالمی توانائی منڈی متاثر ہو گی بلکہ دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کریں گی۔
ایڈ ہرس کے مطابق اس بحران کے اثرات امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو اس کے امریکا کی داخلی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ اور توانائی کی قیمتوں کا دباؤ عوامی سطح پر سیاسی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال آئندہ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوامی زندگی اور معیشت کو متاثر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز کی ترسیل متاثر ہوئی تو دنیا ایک نئے توانائی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، سیاست اور توانائی کی پالیسیوں پر طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔