حکومت کے بارے میں عوام کیا کہتے ہیں؟، گیلپ سروے میں رائے سامنے آگئی

حکومت کے بارے میں عوام کیا کہتے ہیں؟، گیلپ سروے میں رائے سامنے آگئی

گیلپ سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں عوامی رائے اور مجموعی موڈ میں 2025 کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مستقبل کے بارے میں عوام اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

گیلپ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور قدرتی آفات کے بعد ملک میں بتدریج بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پر گیلپ سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘گیلپ سروے 2025 پاکستان میں بحالی کے واضح اشارے دیتا ہے’۔ ان کے مطابق عوامی رائے میں یہ بہتری حالیہ معاشی استحکام کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

سروے کے مطابق 31 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آ رہی ہے، جبکہ 2023 میں یہ شرح صرف 15 فیصد تھی۔ اسی طرح مقامی معیشت کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں 25 فیصد افراد نے کہا کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ 2024 میں یہ شرح 12 فیصد تھی۔

گیلپ سروے کے مطابق یہ بہتری کئی اہم معاشی اشاریوں میں بہتری کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں مہنگائی کی شرح کا مئی 2023 میں تقریباً 40 فیصد سے کم ہو کر 6 فیصد سے نیچے آ جانا، پاکستانی کرنسی کا نسبتاً مستحکم ہونا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق ان عوامل نے عوامی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سروے میں قیادت کی مقبولیت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 36 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی کے بارے میں عوامی تاثر میں بھی کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، جو 2023 کی بلند ترین سطح سے کم ہوا ہے، تاہم سروے کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں لوگ حکومت اور کاروباری شعبے میں بدعنوانی کو ایک عام مسئلہ سمجھتے ہیں۔

عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔ سروے کے مطابق 25 فیصد افراد نے خود کو ‘خوشحال’ قرار دیا، جبکہ 19 فیصد افراد نے خود کو ‘مشکلات کا شکار’ بتایا۔ یہ رجحان 2024 میں ریکارڈ کم ترین فلاح و بہبود کی سطح کے برعکس ہے۔ یہ بہتری مرد و خواتین، مختلف عمر کے گروپس، آمدنی کے طبقات اور شہری و دیہی آبادی سمیت تقریباً تمام طبقات میں یکساں طور پر دیکھی گئی۔

سروے کے اہم نکات کے مطابق پاکستان میں مایوس افراد کی شرح 26 فیصد رہی، جبکہ پُرامید افراد کی تعداد 51 فیصد رہی۔ مزید یہ کہ 46 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ 2025 معاشی خوشحالی کا سال ثابت ہوگا، جبکہ تقریباً 73 فیصد افراد نے اپنی زندگی پر مجموعی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔

جنوبی ایشیا کے تقابلی جائزے میں پاکستان امید کے اعتبار سے دوسرا کم ترین ملک قرار پایا۔ سروے کے مطابق 51 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ 2025، 2024 سے بہتر ہوگا۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش 78 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد چین 71 فیصد اور بھارت 66 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ پاکستان کے بعد ایران رہا، جہاں صرف 27 فیصد افراد نے آنے والے سال کو بہتر قرار دیا۔

نیٹ ہوپ اسکور، جو پُرامید اور مایوس افراد کے فرق سے تیار کیا جاتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واضح اکثریت کا ماننا ہے کہ 2025، 2024 کے مقابلے میں بہتر ہوگا۔ گیلپ کے مطابق یہ رجحان محتاط مگر مثبت مستقبل کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی استحکام، مؤثر حکمرانی اور جامع ترقی ناگزیر قرار دی گئی ہے۔

یہ نتائج گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے ‘اینڈ آف ایئر سروے’ کا حصہ ہیں، جو پاکستان سمیت 37 ممالک میں کیا گیا۔ اس عالمی سروے میں مجموعی طور پر 37 ہزار 338 افراد سے رائے لی گئی۔ یہ سالانہ سروے 1978 سے مسلسل جاری ہے اور دنیا کے سب سے بڑے آزادانہ عالمی سرویز میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں گیلپ پاکستان بھی شامل ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *