رواں سال موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، صارفین کے لیے چیلنجز اور ریلیف

رواں سال موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، صارفین کے لیے چیلنجز اور ریلیف

سال 2026 میں اسمارٹ فون صارفین کے لیے قیمتوں کے حوالے سے ممکنہ اضافے کی اطلاعات سامنے آ ئی ہیں ایک طرف عالمی سطح پر نئی ٹیکنالوجی اور پرزہ جات کی مہنگائی فونز کو مہنگا کر رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق رواں سال اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں 7% سے 10% تک اضافے کا امکان ہے، جس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں: جدید فونز میں AI فیچرز کے انضمام کی وجہ سے میموری (RAM) کی طلب میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ مینوفیکچررز اب ڈیٹا سینٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے موبائل چپس کی قیمتوں میں 40% تک اضافے کا خدشہ ہے۔

اسمارٹ فون بنانے کی لاگت (Bill of Materials) میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کا بوجھ آخر کار صارفین کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ جہاں عالمی حالات فونز کو مہنگا کر رہے ہیں، وہیں حکومتِ پاکستان اور ایف بی آر (FBR) نے مقامی صارفین کے لیے کچھ اہم اقدامات کیے ہیں۔

جنوری 2026 میں جاری ہونے والی نئی ‘کسٹم ویلیویشن’ (Valuation Ruling 2035) کے تحت استعمال شدہ آئی فونز، سام سنگ اور گوگل پکسل جیسے فونز پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ کچھ ماڈلز کی ویلیو میں 30% سے 80% تک کمی آئی ہے، جس سے ان کا PTA ٹیکس کم ہو گیا ہے۔

پاکستان میں اسمارٹ فونز کی مقامی اسمبلنگ (Made in Pakistan) میں تیزی آنے سے درمیانے درجے (Budget Segment) کے فونز کی قیمتیں مستحکم رہنے کی امید ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ فلیگ شپ (Flagship) یا بالکل نیا ماڈل خریدنا چاہتے ہیں، تو عالمی قیمتیں بڑھنے سے پہلے خریداری بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کا رخ استعمال شدہ (Used) فونز کی طرف ہے، تو موجودہ ٹیکس کمی آپ کے لیے بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *