ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں شروع کیے گئے ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود 14 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس وسیع تر آپریشن کے دوران بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی تنصیبات سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی مراکز پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ان کے بقول سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے اعلیٰ عسکری حکام کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے کی جا رہی ہیں اور آنے والے وقت میں ان حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ نہ تو سیکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کی خبروں میں کوئی صداقت ہے اور نہ ہی امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو کوئی نقصان پہنچا ہے، تاہم خطے میں موجود امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب عالمی برادری پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور اب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس براہِ راست محاذ آرائی نے خطے میں ایک بڑی علاقائی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی خودمختاری کے خلاف کیے گئے حملے قابلِ مذمت ہیں، ترک صدر

