افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے مردانہ لباس پہن کر کام کرنے والی ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ نوریہ گزشتہ تین برس سے “نور احمد” کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی اور شدید غربت کے باعث مردانہ لباس پہن کر کام کرنے پر مجبور ہوئی۔
گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے بیان میں لڑکی نے بتایا کہ اس کا اصل نام نوریا ہے اور وہ افغانستان کے علاقے زرغون کلی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے مطابق وہ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں اپنا حلیہ اور نام بدل کر ریسٹورنٹ پر کام کرتی تھی۔
لڑکی نے مزید بتایا کہ وہ تین سال سے ریسٹورنٹ پر کام کر رہی تھی جبکہ اس سے قبل وہ کسی دکان پر کام کرتی تھی۔
گرفتار ہونے والی افغان لڑکی کے مطابق اسے پہلے ماہانہ سات ہزار افغانی تنخواہ ملتی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر دس ہزار افغانی کر دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے نمائندے کے سوال کے جواب میں لڑکی نے طالبان کی جانب سے تشدد کی بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ مجبوری کے تحت ایسا کر رہی ہے، اسی لیے انہوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا