افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مقاصد کے حصول تک جاری رہیں گی اور افغان طالبان کو معلوم ہے کہ جنگ روکنے کے لیے پاکستان کے مطالبات کیا ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان پاکستان کے حملوں کے بعد ٹی ٹی پی اور دیگر عناصر کو بچاتے پھر رہے ہیں جبکہ افغانستان میں مطلوب دہشت گردوں کو انسانی ڈھال کے پیچھے رکھا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں وہ تمام 36 پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں جہاں سے پاکستان میں حملوں کے لیے لانچنگ کی جاتی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان کی حکومت کس کی سُپر پراکسی ہے، یہ سب کو معلوم ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور صوبائی حکومت کو خطرے کی نوعیت کا بھی علم ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بگرام ایئربیس پر حملے کا مقصد وہ اسلحہ اور لاجسٹک تباہ کرنا تھا جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغانستان میں موجود جتھے کی حکومت سے جان چھڑانا افغان عوام کا کام ہے جبکہ افغان طالبان نے پاکستانی فورسز پر حملے کر کے صورتحال کو اس مقام تک پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کو نہیں بلکہ افغانستان میں موجود اپنے دشمن کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں کیے گئے حملے قانونی، مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے درست ہیں اور دنیا بھر اور خطے کے ممالک کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ دہشت گرد کہاں موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کو معلوم ہے کہ ایران اور پاکستان میں بڑا فرق ہے جبکہ پاکستان عسکری لحاظ سے بھی مضبوط ہے اور ہر طرح کی جنگ لڑنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دشمن سے نمٹنے کے لیے اندرونی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے بھی واضح کیا گیا تھا کہ تیراہ میں کسی بڑے فل اسکیل آپریشن کی ضرورت نہیں اور پاکستان میں حملوں کی بنیادوں کو نشانہ بنانے سے مسئلہ حل ہو گیا۔