صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی وسائل کے بہتر استعمال اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ اسکول ایجوکیشن نےاہم احکامات جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ سے مفت فراہم کی جانے والی درسی کتب کی واپسی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
یہ فیصلے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کیے گئے ہیں، جن کا مقصد بُک بینک نظام کو مؤثر بنانا اور ضرورت مند طلبہ کو بروقت کتب کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں میں پرائمری جماعت سے لے کر ہائیر سیکنڈری سطح تک کے طلبہ سالانہ امتحانات مکمل ہونے کے بعد وہ تمام درسی کتب واپس کرنے کے پابند ہوں گے جو انہیں تعلیمی سال کے آغاز پر مفت فراہم کی گئی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے گا بلکہ آنے والے تعلیمی سال میں نئے اور مستحق طلبہ کو بروقت کتابیں فراہم کرنا بھی آسان ہو جائے گا،محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ درسی کتب کی واپسی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے طلبہ کے رزلٹ کارڈ پر باقاعدہ اندراج کیا جائے گا۔
اس اندراج کے ذریعے یہ ریکارڈ رکھا جائے گا کہ متعلقہ طالب علم نے اپنی کتابیں واپس کر دی ہیں یا نہیں، تاکہ اسکول انتظامیہ اور ضلعی حکام کو نگرانی میں سہولت حاصل ہو۔اسکولوں میں جمع ہونے والی تمام درسی کتب کو منظم طریقے سے “اسکول بُک بینک” میں محفوظ کیا جائے گا۔
ان بُک بینکس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ طلبہ جو مالی مشکلات کے باعث کتابیں خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ ان کتب سے فائدہ اٹھا سکیں اور تعلیم کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔وزیر تعلیم سندھ نے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی پر خصوصی زور دیتے ہوئے محکمہ تعلیم کے افسران کو واضح ذمہ داریاں سونپی ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی ہے کہ تمام اضلاع کے متعلقہ افسران اپنے اپنے علاقوں میں موجود بُک بینک اسٹاک کی تازہ ترین تفصیلات مرتب کریں اور یہ ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو فراہم کریں۔ اس کے بعد ریجنل ڈائریکٹرز اضلاع سے موصول ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کر کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو ایک جامع اور مجموعی رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف تعلیمی نظام میں نظم و ضبط بڑھے گا بلکہ سرکاری سطح پر فراہم کی جانے والی سہولیات کا مؤثر اور شفاف استعمال بھی ممکن ہو سکے گا، جس کا براہِ راست فائدہ طلبہ اور تعلیمی اداروں دونوں کو حاصل ہوگا۔