سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم تحریری فیصلہ جاری، ریسکیو 1122 ملازمین کی قانونی حیثیت واضح ہوگئی

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم تحریری فیصلہ جاری، ریسکیو 1122 ملازمین کی قانونی حیثیت واضح ہوگئی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے ملازمین کی قانونی حیثیت سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین سول سرونٹس کی تعریف میں نہیں آتے بلکہ ان کی حیثیت پبلک سرونٹس کی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں پنجاب سروس ٹربیونل کا سابقہ حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔

یہ تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین کے سروس معاملات سننے کا اختیار پنجاب سروس ٹربیونل کو حاصل نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض کسی ادارے کے سرکاری محکمہ بن جانے سے اس کے ملازمین خود بخود سول سرونٹ نہیں بن جاتے۔

یہ بھی پڑھیں:آج موسم کیسا رہے گا، ریسکیو 1122 کو الرٹ رہنے کا حکم کیوں جاری کیا گیا؟

عدالتی فیصلے کے مطابق پنجاب ایمرجنسی سروس ایک مخصوص قانونی فریم ورک کے تحت قائم ادارہ ہے اور اس کے ملازمین کو ریسکیو 1122 سروس رولز 2007 کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اس ادارے کے ملازمین کے لیے علیحدہ قواعد و ضوابط موجود ہیں اس لیے ان کے سروس معاملات عام سول سرونٹس کے قوانین کے تحت نہیں آتے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 2021 میں کی جانے والی قانونی ترمیم کے باوجود پنجاب ایمرجنسی سروس ایک آزاد قانونی حیثیت رکھنے والے ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس کی انتظامی ساخت دیگر سرکاری محکموں سے مختلف ہے۔

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب ریسکیو 1122 کے ایک ڈرائیور محمد خلیل نے اپنے خلاف ہونے والی محکمانہ تادیبی کارروائیوں کو پنجاب سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ سروس ٹربیونل نے درخواست پر سماعت کے بعد معاملے پر نئے سرے سے باقاعدہ انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم حکومت پنجاب نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین مخصوص قانونی ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کی حیثیت پبلک سرونٹس کی ہے، اس لیے پنجاب سروس ٹربیونل کو ان کے سروس معاملات سننے کا اختیار حاصل نہیں۔

حکومت پنجاب کے مطابق ریسکیو 1122 ایک الگ قانون کے تحت قائم ادارہ ہے جس کے ملازمین کے سروس معاملات اسی قانون اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر حکومت نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد حکومت پنجاب کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے پنجاب سروس ٹربیونل کا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا اور واضح کیا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین کے سروس معاملات متعلقہ قوانین اور ادارے کے اندرونی نظام کے تحت ہی نمٹائے جائیں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مستقبل میں ریسکیو 1122 کے ملازمین کے سروس تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر واضح رہنمائی مل گئی ہے اور ایسے معاملات براہ راست پنجاب سروس ٹربیونل میں لے جانے کی روایت ختم ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *