وزیر اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے مبینہ حملوں کی شدید مذمت کی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر اردوان کو خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ اپنے حالیہ رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل، صبر اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ فوجی تصادم کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستے اختیار کرنا خطے کے مفاد میں ہے۔
وزیر اعظم نے گفتگو کے دوران صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک قریبی اور مسلسل رابطے میں رہیں گے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرے۔