پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ ٹاسک فورس کے قیام پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے فی الوقت کسی بھی احتجاجی حکمت عملی کو نامناسب قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سینئر قیادت نے اپنی رائے سے سہیل آفریدی کو آگاہ کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی اور عالمی حالات کسی نئی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں تصادم کی سیاست کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اپنانا زیادہ مؤثر ہوگا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اگر ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ یا چڑھائی کی گئی تو اس کے سیاسی نتائج پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس مرحلے پر احتجاجی تحریک شروع کرنا نہ صرف کارکنان کے لیے مشکلات پیدا کرے گا بلکہ سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی بھی بڑھا سکتا ہے۔
سینئر رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد اگر احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنا ہے تو موجودہ حالات میں یہ حکمت عملی دانشمندانہ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق کارکنان پہلے ہی مختلف دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے انہیں ایک اور بڑے احتجاجی مرحلے میں دھکیلنا مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پیٹرولیم کی قیمتوں سے متعلق خصوصی ہدایات جاری

