پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا زمین بوس، تمام بازار کھل گئے، ہڑتال کی کال مسترد، معمولات زندگی رواں دواں

پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا زمین بوس، تمام بازار کھل گئے، ہڑتال کی کال مسترد، معمولات زندگی رواں دواں

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ملک کے بیشتر حصوں میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، جہاں بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز کھل گئے اور معمولاتِ زندگی رواں دواں ہیں۔ مختلف شہروں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق عوام اور تاجر برادری نے پی ٹی آئی کی کال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں بٹ خیلہ بازار مکمل طور پر کھلا رہا، جہاں دکانیں اور مارکیٹیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق بعض پی ٹی آئی کارکنوں نے بھی پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے دکانیں کھول دیں، جسے سیاسی حلقوں میں ’اندرونی بغاوت‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج مکمل ناکام، تعداد 10 سے بھی نہ بڑھ سکی

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں بھی حکومتی اور سیاسی شٹر ڈاؤن کو مسترد کر دیا گیا۔ لنڈی کوتل بازار کے تاجروں کا کہنا تھا کہ ’اگر بازار بند کیے جائیں تو ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا‘۔ تاجروں کے مطابق ’ہم مجبور ہیں کہ دکانیں کھولیں تاکہ اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کما سکیں‘۔

پنجاب کے تمام اضلاع میں بھی پی ٹی آئی کی ہڑتال اور احتجاجی کال کو عوامی سطح پر پذیرائی نہ مل سکی۔ تاجر تنظیموں کے مطابق اتوار کی ہفتہ وار چھٹی کے باعث کئی بازار معمول کے مطابق کچھ تاخیر سے کھلے، کیونکہ بڑے بازار عام طور پر دن 11 بجے کے بعد کھلتے ہیں، تاہم اس تاخیر کو سوشل میڈیا پر ہڑتال سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب تمام بازار کھل گئے تو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا زمین بوس ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دکانوں کے بند ہونے کی پرانی اور جعلی تصاویر شیئر کی گئیں، جن کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن جیسے ہی تاجروں نے دکانیں کھولنا شروع کیں، یہ پروپیگنڈا مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔

مردان میں بھی معمولات زندگی بحال رہے، تاجر روزمرہ کی خرید و فروخت میں مصروف نظر آئے، جبکہ ہری پور میں عوام نے پی ٹی آئی کی کال کو واضح طور پر مسترد کر دیا، اور مارکیٹیں کھلی رہیں۔

باڑہ بازار میں بھی پی ٹی آئی کی ہڑتال مکمل طور پر ناکام رہی، جہاں ایک بھی دکان بند نہ ہو سکی۔ مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ ’عوام اب بندشوں اور احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں‘۔

راولپنڈی میں صدر مارکیٹ، راجہ بازار، مری روڈ اور کمرشل مارکیٹ سمیت تمام بڑے کاروباری مراکز کھلے رہے۔ شہریوں نے خریداری شروع کی، سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں رہی، تاہم 9 مئی جیسے واقعات کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے احتیاطی طور پر میٹرو بس سروس کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں:مریم نواز کا بسنت کی تقریبات منسوخ کرنا لائق تحسین، پی ٹی آئی بھی 8 فروری کے احتجاج کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے، فیاض الحسن چوہان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بلیو ایریا کے تمام بڑے شاپنگ مالز اور کاروباری مراکز کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔

ادھر کراچی کے شہریوں نے بھی پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ’کراچی کے لوگ باشعور ہیں، ہم مزید انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے‘۔

بعض شہریوں نے کہا کہ ’شہر کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے، گل پلازہ جیسے سانحات پر پی ٹی آئی کی خاموشی سوالیہ نشان ہے‘۔ شہریوں نے واضح کیا کہ ’ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، جو قربانیاں دے رہی ہے، ایسے عناصر کا ساتھ نہیں دیں گے جو اداروں کے خلاف زبان استعمال کریں‘۔

شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی اور بازار بھی کھلے رہے، جس سے پی ٹی آئی کی ہڑتال کی کال عملی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوئی۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں شٹر ڈاؤن کی ناکامی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب احتجاجی سیاست کے بجائے معاشی سرگرمیوں اور استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *