سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے متعلق اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک بار پھر سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ 18 فروری کو ایک ہی روز میں متعدد اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت کرے گی جنہیں موجودہ سیاسی صورتحال میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کریں گے، جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے مجموعی طور پر چھ کیسز سماعت کے لیے مقرر کیے ہیں۔ ان میں سائفر کیس بھی شامل ہے جس میں حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ حساس نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی سماعت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی طرح توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اس اپیل میں قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور عدالت یہ طے کرے گی کہ سزا معطلی سے متعلق فیصلہ برقرار رہے گا یا اس میں کوئی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے خلاف دائر اپیل بھی 18 فروری کو زیر سماعت آئے گی۔ مزید برآں 9 مئی لاہور مقدمات میں بھی بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے خلاف سرکاری اپیل مقرر کی گئی ہے۔ ان مقدمات کے فیصلے آئندہ عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ہتک عزت کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر اپیلیں بھی اسی روز سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل بھی عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی دن میں متعدد اہم مقدمات کی سماعت غیر معمولی پیش رفت ہے اور اس سے عدالتی عمل میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ 18 فروری کی سماعت کو آئندہ سیاسی اور قانونی منظرنامے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان مقدمات کے نتائج دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔