انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز بھارت اور سری لنکا میں ہو گیا ہے، پاکستان اور نیدر لینڈز کے درمیان سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں کھیلا جانے والا پہلا میچ فہیم اشرف کی دھواں دار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے 3 وکٹوں سے جیت لیا۔
فہیم اشرف کی آخری اوورز میں شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ اے میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف3 وکٹوں سے جیت لیا
نیدرلینڈز کے 147 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنر صائم ایوب نے 13 گیندوں پر 24 رنز بنائے، جس میں 4 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، تاہم وہ آریان ڈٹ کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد صاحبزادہ فرحان نے اننگز کو سنبھالتے ہوئے 31 گیندوں پر 47 رنز اسکور کیے، جن میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
کپتان سلمان آغا نے 8 گیندوں پر 12 رنز بنائے لیکن مڈل اوورز میں نیدرلینڈز کے بولرز نے دباؤ برقرار رکھا۔ سابق کپتان بابر اعظم روانی برقرار نہ رکھ سکے اور 18 گیندوں پر 15 رنز بنا کر روئلوف وین ڈر مروے کا شکار بنے۔ عثمان خان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد شاداب خان اور محمد نواز بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے۔
ایک موقع پر پاکستان کا اسکور 114 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ تھا اور مجموعی اسکور کم دکھائی دے رہا تھا، تاہم فہیم اشرف نے صورتحال بدل دی۔ انہوں نے صرف 11 گیندوں پر ناقابلِ شکست 29 رنز بنائے، جس میں 2 چوکے اور 3 بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 260 سے زائد رہا۔ شاہین شاہ آفریدی 5 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
نیدرلینڈز کی جانب سے پال وین میکیرن، آریان ڈٹ، لوگن وین بیک، روئلوف وین ڈر مروے اور کائل کلائن نے وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کو بڑے اسکور سے روکے رکھا۔
پچ سے بولرز کو مدد ملنے کے باعث پاکستان کو امید ہو گی کہ ان کا بولنگ اٹیک اس مجموعے کا کامیابی سے دفاع کر سکے گا اور نیدرلینڈز کو دباؤ میں رکھے گا۔
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ درست ثابت ہوا پاکستان بولرز نے زبردست بولنگ کرتے ہوئے 19.5 اوورز میں 147 رنز پر پوری ٹیم کو آؤٹ کر دیا، اس طرح پاکستان کو جیت کے لیے مقررہ 20 اوورز میں 148 رنز کا ہدف دیا۔
پہلے کھیلتے ہوئے نیدر لینڈز کی پہلی وکٹ 28 رنز کے مجموعی اسکور پر گری، جب میکس او ڈاؤڈ صرف 5 رنز بنا کر سلمان مرزا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد نیدر لینڈز کا دوسرا نقصان 31 رنز پر ہوا، مائیکل لیوٹ 24 رنز بنا کر محمد نواز کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
نیدر لینڈز کی تیسری وکٹ 65 رنز پر گری، کولن ایکرمین 20 رنز بنا کر ابرار احمد کی شاندار گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔
نیدر لینڈز کی چوتھی وکٹ 105 کے مجموعی اسکور پر گری جب باس دی لیڈے کو 30 رنز پر بابر اعظم نے محمد نواز کی گیند پر کیچ آؤٹ کر دیا۔ پانچویں وکٹ 127 کے مجموعی اسکور پرگری جب نیدر لینڈز کے کپتان اسکاٹ ایڈورڈزکو ابرار احمد کی گیند پر صاحبزادہ فرحان نے کیچ پکڑ کر پویلین بھیج دیا، انہوں نے 37 رنز اسکور کیے۔
اسی طرح نیدر لینڈز کی چھٹی وکٹ128 کے مجموعی اسکور پر گری جب زچ لائن کاچیٹ کو صائم ایوب نے 9 رنز پر آؤٹ کر دیا، ان کا کیچ محمد نواز نے پکڑا، ساتویں وکٹ 129 کے رنز پر گری جب لوگان وین بیک کو صائم ایوب نے صفر پر آؤٹ کر دیا، یہ صائم ایوب کی ایک ہی اوور میں دوسری وکٹ تھی، لوگان وین بیک کا کیچ سلمان علی آغا نے پکڑا۔
نیدر لینڈز کی آٹھویں وکٹ 139 کے مجموعی اسکور پر گری جب رولوف وان ڈر میروی 4 رنز پر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے، نیدر لینڈ کی 9 ویں وکٹ 147 کے مجموعی اسکور پر گری جب آریان دُت 13 رنز پر سلمان مرزا کی گیند پر صاحبزادہ فرحان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، 10 ویں اور آخری وکٹ بھی 147 کے مجموعی اسکور پر گری جب پال وان میکرن صفر پر سلمان مرزا کی گیند پر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے، پاکستانی بولرز نے ابتدائی اوورز میں نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سب سے عمدہ بولنگ سلمان مرزا نے کی انہوں نے نیدرز لینڈ کے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا جبکہ محمد نواز، ابرار احمد اور صائم ایوب نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا شاہین شاہ آفریدی نے ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان کی ٹیم اس میچ میں سلمان علی آغا کی قیادت میں میدان میں اتری ہے۔ ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ ‘ہم اس میچ میں 3 فاسٹ بولرز کے ساتھ کھیل رہے ہیں، کوشش ہو گی کہ نیدر لینڈز کو کم اسکور پر آؤٹ کر کے میچ پر گرفت مضبوط کریں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کا ہدف کھیل کے ہر شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانا ہے۔
میچ کے دوران بارش کے امکانات محض پانچ فیصد تھے، تاہم موسم مجموعی طور پر کرکٹ کے لیے سازگار دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ میچ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسے گروپ مرحلے میں اپنے تمام پول میچز جیتنا ہوں گے تاکہ رن ریٹ اور پوائنٹس بہتر رہیں۔ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو دو قیمتی پوائنٹس سے محروم ہونا پڑا ہے، جس کے باعث ہر میچ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستان کی پلیئنگ الیون میں سلمان علی آغا، صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، بابر اعظم، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، سلمان مرزا، ابرار احمد اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔ شائقین کو قومی ٹیم سے مضبوط کارکردگی کی امید ہے تاکہ ورلڈ کپ کا آغاز فتح کے ساتھ کیا جا سکے۔