وزیر اعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی، جس میں مشرقی وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، ملکی سلامتی اور اہم قومی و معاشی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ملاقات کے دوران وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے صدر مملکت کو خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی رابطوں اور ممکنہ ثالثی کردار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں خاص طور پر مشرقی وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پاکستان پر ممکنہ اثرات، توانائی کے معاملات اور عالمی سفارتی دباؤ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ داخلی سطح پر قومی سلامتی، سیاسی استحکام اور معاشی چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔
اسی تناظر میں ایوانِ صدر میں قومی قیادت کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس کی صدارت صدر آصف علی زرداری کریں گے۔ اجلاس میں وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اہم سیاسی رہنما، اعلیٰ عسکری قیادت اور سینئر سرکاری حکام کی شرکت متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں ملک کو درپیش مجموعی صورتحال کا جامع جائزہ لیا جائے گا اور ایک مشترکہ قومی حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس میں کفایت شعاری پالیسی کو مزید مؤثر بنانے، حکومتی اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے اقدامات زیر غور آئیں گے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہوگی، جبکہ صوبوں کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے وفاقی تعاون بڑھانے سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بعض نئی مالیاتی تجاویز بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔
قومی سلامتی کے تناظر میں اجلاس میں داخلی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خطرات، سرحدی صورتحال، اور سائبر سیکیورٹی جیسے امور بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس سطح کا اجلاس موجودہ حالات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ملک کو بیک وقت معاشی دباؤ، سیاسی تناؤ اور عالمی حالات کے اثرات کا سامنا ہے۔ ایسے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ فیصلے وقت کی اہم ضرورت قرار دی جا رہی ہے۔
یاد رہے اگر اس اجلاس میں ٹھوس فیصلے کیے گئے تو نہ صرف معیشت کو سہارا مل سکتا ہے بلکہ سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کو بھی فروغ ملے گا۔