سلطنت اُومان نے رواں برس ماہِ مقدس رمضان المبارک کے آغاز سے متعلق باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اُومان کی مرکزی چاند دیکھنے والی کمیٹی ‘ہلال نیمہ’ نے واضح کیا ہے کہ شعبان کے 29 ویں روز چاند نظر آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے اور یکم رمضان 19 فروری کو ہوگی۔
کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلکیاتی حسابات اور سائنسی مشاہدات کے مطابق منگل کے روز چاند غروبِ آفتاب سے قبل پورے اُومان میں کہیں بھی نظر نہیں آئے گا، جس کے باعث بصری طور پر ہلال دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورتحال میں شرعی اصولوں کے تحت شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 18 فروری کو شعبان کا آخری دن ہوگا اور اس کے بعد 19 فروری بروز بدھ یکم رمضان المبارک ہوگی۔ حکام نے واضح کیا کہ ماہِ ہجری کے آغاز کا تعین روایتی شرعی طریقہ کار اور جدید فلکیاتی علوم دونوں کی روشنی میں کیا گیا ہے تاکہ فیصلہ مکمل طور پر درست اور قابلِ اعتماد ہو۔
ہلال نیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس اعلان کا مقصد عوام کو پیشگی آگاہی فراہم کرنا ہے تاکہ شہری رمضان المبارک کی عبادات، سحری و افطاری کے انتظامات اور دیگر دینی سرگرمیوں کی تیاری بروقت کر سکیں۔
سلطنت اُومان میں رمضان المبارک کے دوران سرکاری و نجی اداروں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی جاتی ہے، جبکہ مساجد میں خصوصی تراویح اور دینی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مارکیٹوں میں بھی رمضان کی خریداری کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے اور اشیائے خورونوش کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی آلات کی مدد سے چاند کی پیدائش اور غروب ہونے کے اوقات کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی اعلان ہمیشہ شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
اُومان کے اس اعلان کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی چاند دیکھنے کی تیاریوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اور مسلم دنیا کی نظریں اب اپنے اپنے قومی رویت ہلال کمیٹیوں کے اعلانات پر مرکوز ہیں۔
یوں سلطنت اُومان نے رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو روحانی مہینے کی تیاری کے لیے واضح سمت فراہم کر دی ہے، اور ملک بھر میں عبادات اور خیر و برکت کے اس مقدس مہینے کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔