پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف سماجی شخصیت شاہد خان آفریدی نے اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اب ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے اور محض بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس سے آگے بڑھنے کا وقت آ چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں شاہد آفریدی نے کہا کہ ’بلوچستان میں مسلسل دہشت گرد حملوں کے بعد اب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جانا انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے ایک بار پھر اپنی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبادت گاہ میں موجود نہتے شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنایا۔
شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا کہ ’دہشت گردی کی یہ لہر روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے، آخر کب تک ہم یہ سب برداشت کرتے رہیں گے؟ کیا ہم ہمیشہ کی طرح صرف مذمتی بیانات اور ٹوئٹس تک ہی محدود رہیں گے؟‘ان کا کہنا تھا کہ قوم اب عملی اقدامات دیکھنا چاہتی ہے، محض زبانی جمع خرچ سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
سابق کپتان نے مطالبہ کیا کہ ’بیرونی مداخلت کے جن ثبوتوں کا بارہا ذکر کیا جاتا ہے، انہیں کھل کر قوم کے سامنے لایا جائے‘۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اعتماد میں لے کر دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے جو بھی سخت اور ناگزیر فیصلے ضروری ہوں، وہ فوری طور پر کیے جائیں۔
شاہد آفریدی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانیت بلکہ دینِ اسلام کے بھی خلاف ہے، ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں‘۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، ریسکیو اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر ملک میں سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن حکمتِ عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔