امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خونی جنگ کے دوران ایک نیا سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں براہِ راست کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور انہیں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی جانشینی کسی صورت قبول نہیں۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ایران کے نئے لیڈر کے انتخاب میں اسی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے وینزویلا میں مداخلت کی تھی۔ مجتبیٰ خامنہ ای پر تنقید: ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک “لائٹ ویٹ” یعنی غیر اہم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں امن اور ہم آہنگی لائے۔”
صدر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ایسا لیڈر آیا جو پرانی پالیسیوں کو ہی جاری رکھے گا، تو امریکا کو پانچ سال بعد دوبارہ جنگ کرنی پڑے گی، جو وہ نہیں چاہتے۔ کردار کا مطالبہ: ٹرمپ کا کہنا تھا، “ہمیں اس شخص کا انتخاب (ایران کے ساتھ مل کر) کرنا ہوگا جو مستقبل میں ایران کی قیادت کرے۔”
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ساتویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ علی خامنہ ای کی ہلاکت: صدر ٹرمپ اور اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ ہفتے ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے تہران کو براہِ راست وارننگ دی:
“میرا ماننا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مجھے ذاتی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ اگر ایران نے امریکی شمولیت کے بغیر کسی جانشین کا تقرر کرنے کی کوشش کی، تو وہ صرف اپنا وقت ضائع کرے گا۔”
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران میں محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو مکمل طور پر واشنگٹن کے منظورِ نظر ہو، تاکہ مستقبل میں کسی بھی عسکری ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔