پاکستان نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ بمباری، بھاری جانی نقصان اور شہری ڈھانچے کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے ایک خصوصی بیان میں واضح کیا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کے منافی ہیں بلکہ یہ خطے میں جاری امن کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنانی حکومت اور وہاں کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے جنگ بندی، لبنان پر قیامت، ایک ہی روز 254 شہادتیں، معروف عالم دین امام صادق النبولسی بھی اسرائیلی جارحیت کا شکار
دوسری جانب، لبنان کی صورتحال پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح کا رابطہ ہوا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو ٹیلیفون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
پاک، سعودی وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ جنگ بندی کا مکمل احترام اور نفاذ ناگزیر ہے۔ اسحاق ڈار نے پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی مسلسل حمایت کو بھی سراہا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان لبنانی آزادی، علاقائی خود مختاری اور امن و استحکام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
9 اپریل 2026 کو جاری ہونے والے اس بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ان جارحانہ کارروائیوں سے روکے جو نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرقِ وسطٰی کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان اور سعودی عرب کا یہ مشترکہ موقف اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے اسرائیل پر سفارتی دباؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں:اسرائیل نے صحافت کا گلا دبا دیا، لبنان میں 3 صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ، بچانے والے 5 طبی ورکز بھی صہیونی بربریت کی نذر
پاکستان اور سعودی عرب روایتی طور پر مشرقِ وسطٰی کے معاملات میں ہم آہنگ پالیسی رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جب پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا بیڑا اٹھایا ہے، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں میں شدت کو ان سفارتی کوششوں میں رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

