بلوچستان میں رواں سال کے دوران کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور رواں سال اب تک 12 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں رواں سال اب تک 12 ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جب کہ اٹامک انرجی کینسر ہسپتال سینار کی او پی ڈی بھی 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے سہولیات پر شدید دباؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع سے اس حوالے سے تشویشناک خبریں سامنے آئی ہیں اور کم عمر بچوں اور نوجوانوں میں بھی کینسر کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، خاص طور پر چھاتی، معدہ، خوراک کی نالی اور بڑی آنت کے سرطان کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر متوازن طرزِ زندگی بچوں اور نوجوانوں میں کینسر پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں اور
ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بروقت تشخیص، احتیاطی تدابیر اور صحت مند طرزِ زندگی کے بغیر کینسر کے بڑھتے کیسز پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ احتیاط اور آگاہی ہی اس مہلک مرض کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔
دوسری جانب حکومتِ بلوچستان اور نجی شعبے کے اشتراک سے کینسر کے مریضوں کو اب اپنے ہی صوبے میں عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں لوگ مرض کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں دم توڑ دیتے تھے، مگر اب کینسر کے مریضوں کی رجسٹریشن کا جدید سسٹم فعال ہونے سے اصل اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، جس سے پالیسی سازی میں مدد مل رہی ہے۔
صوبے میں ضلعی سطح پر اسکریننگ کیمپوں کے قیام سے اب مرض کی ابتدائی اسٹیج پر تشخیص ممکن ہو رہی ہے، جس سے جان بچنے کے امکانات بھی سامنے آئے ہیں۔
بلوچستان کے عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اب انہیں علاج کے لیے دوسرے شہروں کے مہنگے سفر کی ضرورت نہیں رہی اورکینسر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن: کوئٹہ میں BINO (بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی) کو جدید ترین ریڈیو تھراپی مشینوں سے لیس کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے کینسر کے غریب مریضوں کے لیے مہنگی ادویات کی بلا معاوضہ فراہمی کا پروگرام شروع کیا ہے۔ کینسر کا علاج اب ‘صحت کارڈ’ کے ذریعے کور کیا جا رہا ہے، جو غریب خاندانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
اگرچہ اعداد و شمار تشویشناک ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان اب اس مرض کے خلاف زیادہ مضبوطی سے لڑ رہا ہے۔ بروقت تشخیص اور جدید علاج کی دستیابی اس بات کی ضمانت ہے کہ بلوچستان کے عوام اب کینسر جیسے موذی مرض کے سامنے بے بس نہیں ہیں۔