قومی ڈیٹا بیس و رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت، ڈیٹا کے تحفظ اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاک آئی ڈی ایپ کے نئے ورژن میں ایک اہم اور مفید فیچر شامل کر دیا ہے۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین اب اپنی شناختی معلومات کی مکمل ویریفیکیشن ہسٹری دیکھ سکیں گے، جس سے انہیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ان کا قومی شناختی کارڈ یا دیگر بایومیٹرک ڈیٹا کہاں اور کن اداروں کے ذریعے تصدیق کے لیے استعمال ہوا۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق پاک آئی ڈی ایپ کا نیا ورژن 5.4.2 جاری کر دیا گیا ہے، جس میں “Verification History” کے نام سے ایک نیا ٹیب شامل کیا گیا ہے۔ اس ٹیب کے ذریعے صارفین مختلف زمروں کے تحت اپنی شناختی معلومات کے استعمال کی تفصیلات با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر صارفین کو اپنی ذاتی معلومات پر نظر رکھنے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
ایپ میں موجود “All Shared” سیکشن میں ان تمام اداروں اور افراد کی مکمل فہرست فراہم کی گئی ہے جنہوں نے کیو آر کوڈ، فنگر پرنٹس، فیشل ریکگنیشن یا شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے صارف کی معلومات کی تصدیق کی۔ ہر اندراج کے ساتھ مزید تفصیلات دیکھنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے، تاکہ صارف کو تصدیقی عمل کی مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔
اسی طرح “Digital QR” سیکشن میں وہ تمام اندراجات دکھائے جاتے ہیں جہاں صارف کی شناخت کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق ہوئی ہو۔ “Fingerprints” سیکشن میں فنگر پرنٹس کے ذریعے کی گئی ویریفیکیشن کی تفصیل فراہم کی گئی ہے، جبکہ “Facial” ٹیب میں چہرے کی تصویر کے ذریعے ہونے والی تصدیق کا ریکارڈ موجود ہے۔
اس کے علاوہ “CNIC” ٹیب میں شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے کی گئی ویریفیکیشن کی مکمل معلومات دیکھی جا سکتی ہیں۔
نادرا کے مطابق یہ نیا فیچر شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے اور نظام میں شفافیت بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاک آئی ڈی ایپ کو فوری طور پر تازہ ترین ورژن میں اپ ڈیٹ کریں، جبکہ جن صارفین کے پاس یہ ایپ موجود نہیں، انہیں اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔