پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دی گئی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال کی ناکامی کے بعد خیبر پختونخوا میں صورتحال کشیدہ ہو گئی، جہاں پی ٹی آئی کی مبینہ ڈنڈا بردار فورس سڑکوں پر نکل آئی اور زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوششیں شروع کر دیں۔
اتوار کو مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے تاجروں اور عام شہریوں کو ڈرا دھمکا کر کاروبار بند کرانے کی کوشش کی، جس پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
پشاور کے اندرون شہر سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی کارکن سڑکوں پر نظر آئے، جہاں انہوں نے دکانداروں کو زبردستی شٹر گرانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
عینی شاہدین کے مطابق اس دوران شدید بدنظمی پیدا ہوئی، خریداری کے لیے آنے والے شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے اور بعض مقامات پر لوگ بمشکل اپنی جانیں بچا کر وہاں سے نکل سکے۔
ہنگو میں بھی پی ٹی آئی کا احتجاج بری طرح ناکام ہونے کے بعد کارکنوں نے دکانیں زبردستی بند کروانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی ہوئی اور اطلاعات کے مطابق کچھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے دکانداروں اور شہریوں نے خود مزاحمت کی، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
چارسدہ میں شہریوں نے ہڑتال کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ ایک دکاندار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہڑتال کی وجہ سے ہماری زندگی متاثر ہوتی ہے، دکان کا کرایہ دینا ہے، مزدوروں کی تنخواہیں ادا کرنی ہیں، اگر دکان بند کریں گے تو بچوں کا خرچہ اور گھریلو اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ زبردستی کی سیاست کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔
ادھر انجمن تاجران باڑہ کے سینیئر رہنما حاجی فقیر محمد نے باڑہ میں پی ٹی آئی کی ہڑتال سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’تاجر برادری کسی سیاسی دباؤ یا زبردستی کا حصہ نہیں بنے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار بند کرانا مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید مشکلات کو جنم دیتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقے ہویلیاں میں بھی اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے دکانیں بند نہ کرنے پر دکانداروں کے ساتھ بدتمیزی اور زور زبردستی کی، جس پر عوامی سطح پر غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہتھکنڈے جاری رہے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں زبردستی شٹر ڈاؤن کرانے کی کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی کال کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام اور تاجر برادری معاشی دباؤ، مہنگائی اور روزگار کے مسائل کے باعث کسی بھی قسم کی بندش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
عوامی حلقوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال اور کاروبار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور زبردستی دکانیں بند کروانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔