سینیٹر افنان اللہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے اور حالیہ عوامل نے عیاں کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ کے طور پر کام کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ ان کا ٹی ٹی پی سے کوئی تعلق نہیں، اب غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اب وہ ٹی ٹی پی کو اپنی شاخ کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے پاکستان میں حملے کروا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ موجودہ صورتحال نے پاکستان کے اس موقف کو درست ثابت کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ افغان طالبان اب اس معاملے کو مذہب کے بجائے ڈیورنڈ لائن اور علاقائی تنازع کی طرف لے جا رہے ہیں، جس کا مقصد سرحدوں کی حیثیت کو متنازع بنانا ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ دفاعی حلقوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے سخت جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے واضح کیا اپریشن غضب للحق میں حال ہی میں جن افغان پوسٹوں پر پاکستان کی افواج نے قبضہ کیا گیا تھا، وہ اب بھی پاکستانی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور انہیں واپس نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ پاکستان نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اشتعال انگیزی جاری رہی تو پاکستان مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی اور جنگی تجربہ کار فوج موجود ہے اورافغانستان کی تعمیر و تشکیل میں پاکستان کے تاریخی کردار کی وجہ سے اسے ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہے جسے افغان حکومت نظر انداز نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب پروگرام میں شریک ہمایوں مہمند نے حال ہی میں ایک ہندوستانی جنرل کے حوالے سے انکشاف کیا کہ بھارت ‘گریٹر اسرائیل’ کے منصوبے کی تکمیل کے لیے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سازش یہ ہے کہ طالبان کے ذریعے پاکستان کو شمال اور مغرب سے، بھارت کے ذریعے مشرق سے اور ایران کے ذریعے جنوب مغرب سے کنٹرول کیا جائے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان اور بھارتی پروپیگنڈا کا گٹھ جوڑ بے نقاب،عراق کی ویڈیو کو جنوبی وزیرستان حملہ بنا کر پھیلانے کی سازش ناکام
انہوں نے کہا کہ دنیا جہاں طالبان کو دہشت گرد حکومت سمجھتی ہے، وہیں بھارت کھلے عام ان کے ساتھ ہم آہنگی کا اعتراف کر رہا ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔