ایکیوپنکچر کیا ہے اور کینسر کے مریضوں کے لیے کیسے مددگار ہے؟

ایکیوپنکچر کیا ہے اور کینسر کے مریضوں کے لیے کیسے مددگار ہے؟

اسلام آباد:کینسر کا علاج محض بیماری سے لڑنے کا نام نہیں بلکہ اس سفر کے دوران مریض کو پیش آنے والی جسمانی اور ذہنی تکالیف کو کم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

جدید طب کے ساتھ ساتھ اب تکمیلی طریقۂ علاج بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں، جن میں ایکیوپنکچر (Acupuncture) نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کینسر کا متبادل علاج نہیں بلکہ علامات میں کمی کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ایکیوپنکچر کیا ہے؟
ایکیوپنکچر ایک قدیم چینی طریقۂ علاج ہے جس میں جسم کے مخصوص مقامات پر نہایت باریک اور جراثیم سے پاک سوئیاں لگائی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد جسم کے اعصابی نظام کو متحرک کر کے درد اور دیگر علامات میں کمی لانا ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکیوپنکچر کینسر کو ختم نہیں کرتا، تاہم یہ علاج کے دوران ہونے والے مضر اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

 ایکیوپنکچر اعصابی نظام کو متحرک کر کے جسم میں ایسے کیمیائی مادے خارج کرتا ہے جو درد کو کم کرنے اور سکون پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کے مکمل سائنسی طریقۂ کار پر تحقیق جاری ہے، مگر متعدد مطالعات اس کے معاون فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔

طبی حلقوں کے مطابق تربیت یافتہ اور مستند ماہر کے ذریعے کیا جانے والا ایکیوپنکچر عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کینسر کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس علاج کو شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج یا آنکولوجسٹ سے مشورہ کریں، کیونکہ بعض مریضوں میں قوتِ مدافعت کم ہونے یا خون کے مسائل کی وجہ سے احتیاط درکار ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایکیوپنکچر کروانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ معالج مستند ادارے سے تربیت یافتہ ہو، جراثیم سے پاک سوئیاں استعمال کرے اور کینسر کے مریضوں کے علاج کا تجربہ رکھتا ہو۔
ایکیوپنکچر کو کبھی بھی روایتی کینسر علاج جیسے کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:وہ سبزیاں جو کینسر سے بچا سکتی ہیں

یہ محض ایک تکمیلی سہولت ہے جس کا مقصد مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
کینسر کے خلاف جنگ میں جہاں جدید سائنس بنیادی کردار ادا کر رہی ہے، وہیں مریض کی جسمانی اور ذہنی راحت بھی علاج کا لازمی حصہ ہے۔ ایکیوپنکچر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو درست رہنمائی اور طبی مشورے کے ساتھ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *