پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلے سے قبل قومی ٹیم کے اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر بحث نے زور پکڑ لیا ہے، جبکہ سابق بھارتی اسپنرروی چندرن ایشون نے بھی اس حوالے سے بڑا بیان دے دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان طارق کے ایکشن کو لے کر سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا ایکشن غیر روایتی ضرور ہے مگر قوانین کے دائرے میں ہے، جبکہ کچھ ناقدین نے اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلے سے قبل قومی اسپنر کے بولنگ ایکشن پر اٹھنے والے سوالات کے حوالے سے سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون اور بھارتی امپائر انیل چوہدری نے اہم وضاحت کر دی ہے۔
عثمان طارق کا بولنگ ایکشن دیگر اسپنرز سے مختلف ضرور ہے، تاہم آئی سی سی قوانین کے مطابق یہ مکمل طور پر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے امریکا کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا مخصوص ایکشن برقرار رکھا۔
انیل چوہدری نے ایک بھارتی ڈیجیٹل شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عثمان طارق ہر گیند اپنے روٹین ایکشن کے ساتھ کرتے ہیں، اسی لیے اسے قانونی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف اسی صورت پیدا ہوگا جب بولر اپنے معمول کے ایکشن سے ہٹ کر گیند کروائے۔ اگر بیٹر کو شک ہو تو وہ امپائر کو آگاہ کر سکتا ہے، جس پر امپائر وارننگ یا دیگر کارروائی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب روی چندرن ایشون نے بھی واضح کیا کہ کسی بھی بولنگ ایکشن کی حتمی قانونی حیثیت صرف آئی سی سی کے منظور شدہ ٹیسٹنگ سینٹر سے ہی طے ہوتی ہے، اور قوانین کے تحت 15 ڈگری تک بازو کا خم (elbow extension) قابلِ قبول ہے۔
ایشون اور انیل چوہدری کے بیانات کے بعد پاک بھارت ٹاکرے سے قبل عثمان طارق کے ایکشن سے متعلق بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پائی جانے والی تشویش میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ شائقین کی توجہ اب میدان میں ہونے والے اصل مقابلے پر مرکوز ہے۔
مزید جانیئے: سہ ملکی سیریز،زمبابوے کو شکست،پاکستان فائنل میں پہنچ گیا،عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک

