امریکا ایران مذاکرات کے اہم مرحلے کے دوران سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان پہنچا، جس میں سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان شامل تھے۔گو کہ سعودی عرب حالیہ مزاکرات میں براہ راست شریک نہیں ہیں تاہم مزاکرات کے روز ان کی پاکستان موجودگی خصوصی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
وفد نے مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے باضابطہ ملاقات کی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔سعودی وفد پاکستان میں مختصر قیام کے بعد ہفتہ کو واپس روانہ ہوگیا وفاقی وزیر خزانہ نے وفد کو روانہ کیا
اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور حالیہ خوشگوار ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کیلئے سعودی قیادت کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان روانگی سے قبل ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو کیا کہا؟امریکی میڈیا سے سب بتا دیا
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، مالی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے اس موقع پر کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ ذرائع کے مطابق سعودی وزیر خزانہ نے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

