ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں۔ اس اچانک اور بڑے حملے کے بعد پورے شہر میں فضائی حملوں کے سائرن گونج اٹھے اور شہری آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق تل ابیب کے آسمان پر کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ ان میزائلوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ حملے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو بنکرز اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ جوابی کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی قیادت کا تیزی سے خاتمہ کیا جا رہا ہے اور امریکہ ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو ایران ایٹم بم بنا لیتا۔ تاہم، ایران نے تل ابیب پر میزائل داغ کر یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی عسکری صلاحیتیں اب بھی فعال ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے حملوں میں اب تک 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل پر حالیہ حملے کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ اسپین کی جانب سے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کی خبروں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال ایک مکمل علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی قیادت کا خاتمہ کر رہے ہیں، ٹرمپ کا پوری قوت سے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

