عمران خان کے بیرون ملک علاج کی قیاس آرائیوں پر حکومت کا مؤقف واضح

عمران خان کے بیرون ملک علاج کی قیاس آرائیوں پر حکومت کا مؤقف واضح

سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو ملک سے باہر علاج کے لیے بھیجنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ تاہم حکومت نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طبی ضرورت پڑی تو عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، لیکن تاحال کوئی حتمی فیصلہ یا شیڈول طے نہیں پایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج اور مجموعی صحت کی دیکھ بھال کے لیے تمام اقدامات قانونی اور طبی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے بھی عمران خان کے تفصیلی طبی معائنے کا حکم دیا ہے اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی مستقبل کے اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔

صحافتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ سیاسی مذاکرات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک علاج کا امکان زیرِ غور ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی منصوبہ بندی یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر طبی ضرورت اور قانونی تقاضوں کے دائرے میں ہے، اور سیاسی قیاس آرائیوں کو بنیاد بنانا مناسب نہیں۔ شائقین اور عوام کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، جب عدالت اور حکومت کی جانب سے رسمی اعلامیے متوقع ہیں۔

مزید جانیئے: عمران خان کو اسلام آباد کی نئی جیل (نہ کے بنی گالہ) میں بھیجا جائے گا، وزیر داخلہ محسن نقوی

 

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *