معیشت کے لیے بڑی خوشخبری، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود ترسیلاتِ زربلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

معیشت کے لیے بڑی خوشخبری، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود ترسیلاتِ زربلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

مشرقِ وسطٰی میں جاری شدید علاقائی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں نے ملک کی جانب رقوم بھیجنے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 3.8 ارب ڈالر کی بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو فروری کے مقابلے میں 17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

اگرچہ یہ رقم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 4 ارب ڈالر سے 5 فیصد کم ہے، تاہم موجودہ علاقائی حالات میں اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنیوالے پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 30.321 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 28 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.2 فیصد (تقریباً 2.29 ارب ڈالر) زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اخراجات کی ضرورت اور خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے نئے مواقع اس اضافے کا بنیادی سبب بنے ہیں۔

انفرادی ممالک میں سعودی عرب 7.086 ارب ڈالر کے ساتھ پہلے جبکہ متحدہ عرب امارات 6.267 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ برطانیہ سے 4.6 ارب ڈالر اور یورپی یونین سے 3.9 ارب ڈالر موصول ہوئے، جہاں 20 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

یہ ریکارڈ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈز ادا کیے ہیں جبکہ رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو مزید 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔

مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک کا 18 سال سے کم عمر افراد کے اکاونٹ سے متعلق بڑا فیصلہ

مجموعی طور پر 4.9 ارب ڈالر کی یہ ادائیگیاں زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالیں گی جو مارچ کے آخر تک 16.5 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ ماہرین کے مطابق، اگر مشرقِ وسطٰی میں جنگ بندی مستقل ہو جاتی ہے تو نہ صرف ترسیلاتِ زر میں مزید استحکام آئے گا بلکہ تعمیرِ نو کے عمل میں پاکستانی افرادی قوت کی مانگ میں مزید اضافے سے ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا۔

پاکستان کی معیشت میں ترسیلاتِ زر ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ملک کا تجارتی خسارہ پورا کرنے اور بیرونی قرضوں کی اقساط چکانے کے لیے ان رقوم پر انحصار بہت زیادہ ہے۔

ماضی میں جب بھی مشرقِ وسطٰی میں جنگی حالات پیدا ہوئے، یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ پاکستانیوں کی واپسی سے ترسیلات کم ہو جائیں گی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ زیادہ رقوم بھیج کر معیشت کو سنبھالا ہے۔ اپریل 2026 کی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ عالمی مہنگائی کے باوجود تارکینِ وطن کا اپنے ملک کے مالیاتی نظام پر اعتماد برقرار ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *