پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی ہڑتال کی کال کراچی کے عوام نے یکسر مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں شہر بھر کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں۔ شہر کی مشہور اور مصروف مارکیٹیں، جیسے ایمپریس مارکیٹ، صدر، گلشنِ اقبال، کلفٹن اور دیگر بڑے تجارتی مراکز میں دن بھر رش رہا اور دکانیں کھلی رہیں۔
شہریوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ احتجاجی کالز کے اثر میں نہیں آئیں گے اور اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھیں گےحالیہ ہڑتال کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور اپنی معاشی سرگرمیوں اور روزمرہ معمولات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شہر میں نہ کوئی شٹر ڈاؤن ہوا، نہ ’پہیہ جام‘ کی کوئی صورتحال پیدا ہوئی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر ضروری خدمات بھی معمول کے مطابق جاری رہیں۔
ملک بھر میں بھی تحریک انصاف کی ہڑتال کی کال کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں دیکھا گیا، جس سے پارٹی کو ایک اور سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام نے واضح طور پر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ایسے احتجاجی بیانیوں کی حمایت نہیں کرتے جو شہری زندگی کو متاثر کریں۔ شہری اپنی روزمرہ مصروفیات اور کاروباری زندگی کی اہمیت کو مقدم رکھتے ہیں اور احتجاجی سیاست کو ترجیح نہیں دیتے۔
کراچی میں انتظامیہ کی جانب سے بھی امن و امان اور معمولات زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے، تاہم چونکہ شہریوں نے ہڑتال کی کال کو مسترد کیا، اس لیے کسی ناخوشگوار واقعے یا خلل کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ مارکیٹیں بلا خوف کھلی رکھیں، جس سے شہر کی کاروباری زندگی پر کوئی منفی اثر نہ پڑا۔
اس طرح تحریک انصاف کی ہڑتال ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کراچی میں بھی مکمل ناکام رہی اور عوام نے احتجاجی سیاست کے اثرات سے خود کو الگ رکھ کر واضح پیغام دے دیا کہ وہ اپنے معمولات زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔