ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران تہران میں پاکستانی سفارت خانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے قریبی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں سفارت خانے کے گردونواح کا علاقہ لرز اٹھا، تاہم خوش قسمتی سے تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ ہے اور عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور سفیرِ پاکستان کی رہائش گاہ کے قریبی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ دفترِ خارجہ کے ذرائع اور سفارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تمام افسران اور عملہ خیریت سے ہے، تاہم دھماکوں کی شدت سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے تہران میں فوجی تنصیبات اور سرکاری انفراسٹرکچر پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور آج اس جنگ کا 27 واں روز ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دھماکے ان کوششوں کے درمیان ہوئے ہیں جہاں پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ‘شٹل ڈپلومیسی’ (Shuttle Diplomacy) میں مصروف ہے۔پاکستان نے حال ہی میں امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے۔
سفارت خانے کے قریب دھماکوں کے بعد پاکستانی حکام نے ایرانی حکومت سے سفارتی عملے کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی مشنز کے قریب بمباری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
تہران میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سفارت خانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تہران سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹس موصول کی جا رہی ہیں۔