امریکا میں پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج مکمل ناکام، تعداد 10 سے بھی نہ بڑھ سکی

امریکا میں پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج مکمل ناکام، تعداد 10  سے بھی نہ بڑھ سکی

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی، جہاں پاکستان ایمبیسی کے باہر شرکا کی تعداد 10 سے 15 افراد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ یہ احتجاج پی ٹی آئی یو ایس اے چیپٹر کی جانب سے بلایا گیا تھا، تاہم محدود شرکت نے پارٹی کے بیرونِ ملک دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاج میں شامل افراد کی اکثریت پاکستانی نژاد خاندانوں پر مشتمل تھی، جن میں چند بچے بھی شامل تھے۔ مظاہرین ہاتھ سے بنے سائن بورڈز اٹھائے ہوئے نظر آئے، جن پر مبینہ انتخابی دھاندلی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید کے خلاف نعرے درج تھے، مگر مجموعی طور پر منظر ایک کمزور اور غیر مؤثر احتجاج کا تاثر دے رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج میں ریاست مخالف تقاریر، پاکستان کا برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر اظہار تشویش

امریکا میں 7 فروری کو ہونے والا یہ احتجاج فروری 2024 کے عام انتخابات کی دوسری سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا، جسے پی ٹی آئی یو ایس اے نے ایک بڑی سیاسی سرگرمی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ پارٹی کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر شدید سردی اور برفباری کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ’جاندار احتجاج‘ تھا، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس دکھائی دیے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ’کم تعداد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا میں مقیم پاکستانی ڈائسپورا کی اکثریت نے اس احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیا‘۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار احتجاجی کالز دیے جانے کے باوجود عوامی جوش و خروش میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

پی ٹی آئی یو ایس اے کے آفیشل اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تصاویر میں شرکا کو بچوں سمیت دکھایا گیا، جو مختلف نعروں والے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، تاہم تصاویر میں بھی مجمع محدود نظر آیا۔ احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور مظاہرہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا۔

واشنگٹن میں واقع پاکستان ایمبیسی کی جانب سے اس احتجاج پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق احتجاج کی محدود نوعیت کے باعث اسے غیر اہم سمجھا گیا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے پاکستان میں 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن کی کال دے رکھی ہے، جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق غیر مؤثر اور ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک احتجاج کی ناکامی، اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کی کمزوری کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا پی ٹی آئی اپنی احتجاجی سیاست کے ذریعے دوبارہ عوامی حمایت حاصل کر پائے گی یا نہیں، کیونکہ واشنگٹن کا یہ مظاہرہ پارٹی کے لیے ایک واضح انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *