جنگ بندی کے بعد شہباز شریف کا ایرانی صدر سے پہلا رابطہ،مزاکرات سے متعلق کیا بات ہوئی؟

جنگ بندی کے بعد شہباز شریف کا ایرانی صدر سے پہلا رابطہ،مزاکرات سے متعلق کیا بات ہوئی؟

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پہلا اہم رابطہ قائم ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور آئندہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

 دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور امن عمل کو آگے بڑھانے پر غور کیا گیا۔ ایرانی صدر نے اس موقع پر اپنے وفد کو پاکستان بھیجنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی پر آمادگی کے لیے ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی احترام کا اظہار کیا۔

اعلامیے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے قیام میں ادا کیے گئے کردار کو بھی سراہا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے بیرون ملک جانیوالی پروازوں سے متعلق اہم خبر،کس شہر سے کتنی پروازیں اڑان بھریں گی؟

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ بندی ایران کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے اور اسے ایران کے عظیم شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کی بھرپور حمایت نے اس مرحلے کو ممکن بنایا اور اب ایران سفارتکاری اور دفاع کے میدان میں مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *