ایران GCC ممالک میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کرے،جنرل (ر) عبدالقیوم

ایران GCC ممالک میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کرے،جنرل (ر) عبدالقیوم

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (PESS) کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے ایران پر حالیہ امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بلا اشتعال اقدام قرار دیا ہے، جو ایک تسلیم شدہ جنگی مجرم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایما پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر، جنیوا اور ویانا کنونشنز اور بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ امریکی انتظامیہ، اسرائیلی قیادت کے زیرِ اثر اور گمراہ ہو کر ایران کے خلاف ایک غیر قانونی جارحیت کی مرتکب ہوئی ہے، جو ایک غلط تجزیے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلطی ایران کی طاقت کو محض اس کی سیاسی و عسکری قیادت اور جنگی صلاحیت تک محدود سمجھنے سے پیدا ہوئی، جبکہ اس کی گہری نظریاتی بنیادوں، مضبوط سماجی ڈھانچے اور غیر مرکزی نظامِ اختیار کو نظر انداز کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :فوج کا کردار قابلِ ستائش، حکومت کی 4 نکاتی حکمت عملی کامیاب رہی، اسے جاری رہنا چاہیے، جنرل (ر) عبدالقیوم

جنرل قیوم نے زور دیا کہ PESS ہر قسم کی غیر قانونی جارحیت کی بلا امتیاز مذمت کرتی ہے اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ دنیا کے تقریباً نو ممالک کے پاس اس وقت تقریباً 12 ہزار جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی مثبت سفارتی کوششوں کو سراہا اور امن کی بحالی کے لیے مزید وسیع سفارتی روابط پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر عالمی امن کے لیے مذاکرات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہے، اور یہ امر اسرائیل اور بھارت کی جابرانہ حکومتوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

بین الاقوامی اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام ممالک، چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے، بشمول ایران، کی خودمختاری اور سیاسی آزادی کا احترام اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

جنرل عبدالقیوم نے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کی جانب سے خطے اور عالمی امن کے مفاد میں دکھائے گئے تزویراتی تحمل کو بھی سراہا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ GCC ممالک میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، جبکہ ساتھ ہی GCC ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

علاقائی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل قیوم نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے بنیادی طور پر اپنے جغرافیائی و اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، نہ کہ میزبان ممالک کی سلامتی کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ لڑائی نے GCC ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو سلامتی کے بجائے عدم تحفظ اور خطرے کا سبب ثابت کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ، ٹرمپ کو بڑا دھچکا، پہلا بڑا استعفیٰ آگیا

اس تناظر میں انہوں نے تجویز دی کہ GCC ممالک اپنی قومی سلامتی کے لیے دفاعی خود انحصاری اور علاقائی اتحادوں کو فروغ دیں،جنرل قیوم نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا جنگ بندی معاہدہ جس میں ایران ایک خودمختار ریاست کے طور پر برقرار رہے، اسرائیل کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا، جو کہ “گریٹر اسرائیل” کے عزائم رکھتا ہے۔ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں جاری حملوں کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا ثبوت قرار دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مسلم دنیا میں اتحاد اور امن کے فروغ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک مضبوط و متحد بلاک کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایران، سعودی عرب، ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا اور گلف کو آپریشن کونسل (GCC) ممالک سمیت اہم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مشترکہ طور پر ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *