مشرق وسطیٰ کشیدگی : امریکی صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا؟ وال اسٹریٹ جرنل کا اہم انکشاف

مشرق وسطیٰ کشیدگی : امریکی صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا؟ وال اسٹریٹ جرنل کا اہم انکشاف

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے خواہشمند ہیں اور وہ اس معاملے کو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر نمٹانا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں طوالت نہیں چاہتے اور ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کو اپنی دیگر سیاسی ترجیحات، جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن پالیسی سے توجہ ہٹانے کا باعث بھی سمجھتے ہیں۔

اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مئی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک اہم سربراہی اجلاس کی منصوبہ بندی بھی اسی بنیاد پر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس سے پہلے ختم ہو جائے گی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور حتمی فیصلے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا ایک طرف مزید مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہم نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں ، ایک جنگ جیت بھی رہے ہیں ، امریکی صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے ایرانی تیل تک امریکی رسائی کو ممکنہ شرائط میں شامل کرنے پر غور کیا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی واضح عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب مذاکرات چاہتا ہے اور بےتابی سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے تاہم کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے،  ہم نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردیا ہے مگر فیک نیوز کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم جنگ ہار رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم فیک نیوز اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ، امریکی افواج نے ایران کے 100 میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے۔

قبل ازیں امریکی صدرایران پر حملے کا ملبہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال چکے ہیں ، ان کاکہنا تھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے، جبکہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال دیا

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتکاری اور فوجی حکمت عملی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس کی وجہ سے تاحال یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ جنگ کا خاتمہ کس شکل میں ہوگا، تاہم آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *