تہران :مشرقِ وسطیٰ میں فضائی برتری کا مقابلہ ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے اسٹیلتھ (خفیہ) جنگی طیاروں کی ایرانی حدود میں بلا روک ٹوک کارروائیوں کے بعد، ایران نے چین سے دنیا کا جدید ترین اینٹی اسٹیلتھ ریڈار سسٹم YLC-8B حاصل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے غلبے کو چیلنج کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔
چین کے سرکاری ادارے نانجنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرونکس ٹیکنالوجی کا تیار کردہ یہ ریڈار اپنی نوعیت کا منفرد سسٹم ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی ادارے نے پاکستان کے جے ایف-17 (JF-17) تھنڈر میں نصب مشہور ریڈار KLJ-7 بھی ایجاد کیا ہے۔
یہ ریڈار 500 کلومیٹر کی دوری سے دشمن کے جنگی طیاروں کو شناخت کر سکتا ہے، جبکہ 700 کلومیٹر دور سے اڑتے ہوئے میزائلوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ خاص طور پر UHF بینڈ فریکوئنسی کا استعمال کرتا ہے۔ اسٹیلتھ طیاروں (جیسے F-35) کا ڈیزائن عام فریکوئنسی سے بچنے کے لیے ہوتا ہے، لیکن YLC-8B کی لہریں ان طیاروں کے ڈھانچے سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں، جس سے ان کی موجودگی “ناقابلِ شناخت” نہیں رہتی۔
یہ سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے اور اسے ٹرکوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے دشمن کے لیے اسے نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اب تک اسرائیل اور امریکہ اس اعتماد کے ساتھ ایرانی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے رہے کہ ایرانی دفاع “اندھا” ہے۔ YLC-8B کی تنصیب کے بعد اب ان طیاروں کے گرائے جانے کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
یہ ریڈار ایران کے اپنے تیار کردہ باور-373 (Bavar-373) اور روسی S-300 میزائل سسٹمز کے لیے “آنکھوں” کا کام کرے گا، جس سے میزائل داغنے کی درستگی اور ردِعمل کا وقت بہتر ہو جائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ فراہمی ثابت کرتی ہے کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایران کو اپنی حساس ترین ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔