متحدہ عرب امارات نے ایک اہم اور ہمدردانہ فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو رہائشی 28 فروری کے بعد ملک سے باہر رہتے ہوئے اپنے اقامے کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے واپس نہیں پہنچ سکے، وہ اب 31 مارچ 2026 تک بغیر کسی نئے داخلہ ویزا کے دوبارہ یو اے ای میں داخل ہو سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹس سیکیورٹی (ICP) نے بتایا کہ یہ اقدام خطے میں غیر معمولی حالات کے پیش نظر اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ بیرونِ ملک پھنسے ہوئے رہائشی اپنے خاندانوں اور ملازمتوں کے پاس واپس پہنچ سکیں۔
حکام نے واضح کیا کہ اس مقررہ مدت کے دوران واپس آنے والے تمام رہائشیوں پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد متاثرہ افراد کی قانونی حیثیت کو بحال کرنا اور ان پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
ICP کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ‘ایئر آف دی فیملی’ کے تحت بھی کیا گیا تاکہ بچھڑے ہوئے خاندان دوبارہ ایک ساتھ جمع ہو سکیں۔ فیڈرل اتھارٹی نے ایئرپورٹس اور دیگر آپریشنل مقامات پر ایمرجنسی اور بزنس کنٹی نیوٹی پلانز بھی فعال کر دیے ہیں تاکہ مسافروں کو واپسی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ سہولت صرف انہی افراد کے لیے ہے جن کے اقامے فروری کے آخری ہفتے کے بعد متاثر ہوئے اس اقدام سے بیرونِ ملک مقیم افراد اپنی ملازمتیں برقرار رکھ سکتے ہیں اور خاندانوں کے ساتھ دوبارہ سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ اس خصوصی رعایت کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم رہائشیوں کو قانونی اور انسانی مشکلات سے نجات دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ وہ مقررہ مدت کے اندر بغیر کسی رکاوٹ کے ملک واپس آ سکیں اور اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔