پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ، شہباز شریف کا ہنگامی قدم، کڑی نگرانی کے لیے 18 رکنی کمیٹی قائم

پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ، شہباز شریف کا ہنگامی قدم، کڑی نگرانی کے لیے 18 رکنی کمیٹی قائم

ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ علاقائی بحران اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے خدشے کے پیش نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے، جبکہ وفاقی وزیر پیٹرولیم اور وزیر پاور بھی اس اہم کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری پیٹرولیم، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام بھی کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ تمام مالی، انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات میں بڑے اضافے کے بعد بجلی، گیس کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلہ

کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے دستیاب ذخائر، درآمدی شیڈول اور طلب و رسد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے۔ ذرائع کے مطابق ملک میں اس وقت موجود ذخائر اور آئندہ ہفتوں میں متوقع درآمدات کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلل کی صورت میں فوری حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان پر بھی کڑی نظر رکھے گی اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ رد و بدل سے متعلق سفارشات تیار کرے گی۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اگر ترسیل کے اہم راستے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر قیمتوں میں تیزی آسکتی ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر براہ راست پڑتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیشگی اقدامات کے تحت متبادل سپلائی لائنز، اضافی ذخیرہ اندوزی اور مالیاتی گنجائش جیسے امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں فوری فیصلوں کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے تاکہ عوام کو ایندھن کی قلت، طویل قطاروں یا اچانک قیمتوں میں اضافے جیسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،  100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا خدشہ

واضح رہے کہ بروقت اور منظم حکمت عملی سے نہ صرف داخلی منڈی کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے بلکہ مہنگائی کے دباؤ کو بھی کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی مسلسل فراہمی صنعتی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *