یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی جیت ہے ، پاکستان نے کردکھایا ! ہر جگہ اسی نوعیت کے دیگر تبصروں کی گونج اس وقت سوشل میڈیا پر ہے ، خطے کی کشیدہ صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے ثالثی کا کردار یقینا پاکستان نے بیت بہترین انداز میں نبھایا اور یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں پاکستان کو بے پناہ سراہا جارہا ہے ۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے ممالک نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
شکریہ پاکستان ! برطانیہ، نیوزی لینڈ کا پیغام
شکریہ پاکستان ! پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ایران اور امریکہ کے جنگ بندی کے اعلان کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس اہم جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ’خاموش، مؤثر، سفارتی کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ۔‘
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں ایران اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ملکوں کی کوششوں کے شکر گزار ہیں۔‘
آسٹریلیا پاکستان کامعترف
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے بھی تنازع میں کمی کے لیے ثالثوں بشمول پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے لیے پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب سمیت تمام مذاکرات کاروں کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔
مسلم امہ کی یکجہتی میں کردار ، ملائشیا کی تعریف
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام فریقین سے بلا خوف و خطر بات چیت کی کوششیں مسلم یکجہتی اور بین الاقوامی ذمہ داری کی اعلیٰ ترین روایات کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی ڈیموکریٹس بھی پیچھے نہ رہے ، پاکستان کو سراہا
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور کے رینکنگ ممبر گریگوری میکس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی فوجیوں اور دونوں طرف کے شہریوں کی جانیں بچیں گی، اس نتیجے تک پہنچنے میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہوں گا۔‘
مصر اور انڈونیشیا کا جنگ بندی پر مذاکرات کا خیر مقدم
مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کیلئے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے، وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔
جاپان کا امن کا پیغام
ترجمان جاپانی حکومت منورو کہارا نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیشرفت ہے ، حالات کو حقیقی معنوں میں امن کی جانب جانا چاہیے ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کیلئے محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جائے، امید ہے سفارت کاری کے ذریعے جلد حتمی معاہدہ طے پائے گا، جاپان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خطے کو تباہی سے بچانے کیلئے پاکستان کی بھرپور کوششیں رنگ لے آئیں
واضح رہے کہ امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی ’ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے‘ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض چند گھنٹے باقی تھے کہ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر رہے ہیں اور انھوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ اب 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہو گا۔