امریکی خلائی ادارے کا مشن آرٹیمس ٹو اپنے خلائی سفر اور چاند کا چکر لگانے کے بعد واپس آ گیا ہے اور اس میں شامل چار ارکان گزشتہ روز بحرالکاہل میں اترے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق چار ارکان پر مشتمل اس کریو نے خلا میں 10 دن گزارے اور نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد اس خلائی حصے میں انسان کا پہنچنا ممکن ہوا۔
خلابازوں کو لے جانے والا کیپسول امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کے قریب جنوبی کیلیفورینا میں سمندر کی پرسکون لہروں پر پیراشوٹوں کی مدد سے اترا ، سفر کے دوران خلابازوں نے ان حصوں کا سفر بھی کیا جہاں آج تک انسان کبھی پہلے نہیں پہنچا تھا۔
پورٹ کے مطابق آرٹیمس ٹو فلائٹ نے زمین کے دو مداروں میں مجموعی طور پر چھ لاکھ 94 ہزار تین سو 92 میل (11 لاکھ 17 ہزار پانچ سو 15 کلومیٹر) کا سفر کیا، یہ خلائی ادارے کی جانب سے آرٹیمس مشن کی پہلی پرواز تھی جس کا مقصد 2028 تک خلابازوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح تک لے جانا ہے۔
ناسا کے مبصر نے بیان میں کہا گیا ہے کہ سورج غروب ہونے سے تقریباً دو گھنٹے قبل جب آسمان تھوڑا ابرآلود تھا، وہ تاریخ لمحہ آیا جب کیپسول نے سپلیش ڈاؤن کیا جس کو انہوں نے ’بُلز آئی سپلیش ڈاؤن‘ قرار دیا۔
واپسی کے بعد چاروں خلابازوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان کی صحت بہتر ہے۔
خیال رہے یہ مشن یکم اپریل کو روانہ ہوا تھا جو 50 برس سے زیادہ عرصے کے بعد انسانوں کا پہلا قمری سفر تھا، ناسا کے اس مںصوبے کا حصہ جس کے تحت دو سال کے اندر انسان کو چاند پر اتارا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق تین امریکیوں اور ایک کینیڈین خلابازوں پر مشتمل یہ عملہ ایک 32 منزلہ راکٹ کے ذریعے ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔
آرٹیمس ٹو فلوریڈا کے اسی مقام سے روانہ ہوا تھا جہاں سے ماضی میں اپالو کے خلا باز چاند کی طرف گئے تھے ، چند پرانے خلا باز جو اب بھی زندہ ہیں، اس نئی نسل کے عظیم سفر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سراہ رہے تھے۔
اس مشن کے کمانڈر ریڈ وائز مین نے ’چاند پر چلو‘ کہہ کر اس مشن کی قیادت کی، پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن بھی ان کے ہمراہ تھے۔