عالمی رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری کیا گیا۔
اعلامیے پر ایمانوئل میکرون، جارجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارک کارنی اور سانائے تاکائیچی سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے دستخط کیے،اعلامیے میں یورپی کمیشن کی صدر اورسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کی شمولیت بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس میں پاکستان سمیت دیگر شراکت داروں کی سفارتی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
عالمی رہنماؤں نے زور دیا کہ تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ سفارتکاری ہے اور فوری طور پر بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
اعلامیے میں ایران کے شہریوں کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ خبردار کیا گیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کریں، خصوصاً لبنان میں بھی کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں آبنائے ہرمز میں جہاز وں کے گزرنے کی آزادی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو اور معاشی استحکام برقرار رہے۔