دنیا بھر میں جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور امریکی مداخلت نے شدید تشویش پیدا کر رکھی ہے، وہیں انٹرنیٹ کے ‘فنکاروں’ نے اس سنگین صورتحال میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس بار سوشل میڈیا صارفین کا نشانہ بنے ہیں شمالی کوریا کے تیسرے سپریم لیڈر کم جونگ اُن، جنہیں ایک “لاوارث تماشائی” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ٹویٹر (X) اور انسٹاگرام پر ایسی میمز کی بھرمار ہے جن میں دکھایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما، جو عام طور پر اپنے میزائل تجربات کے ذریعے دنیا کی نیندیں اڑائے رکھتے ہیں، اب خود حیرانی سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
انٹرنیٹ صارفین نے اسے “موقع گنوانے کا خوف” (Fear Of Missing Out – FOMO) قرار دیا ہے۔ میمز میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کم جونگ اُن اس بات پر “ناراض” ہیں کہ اتنی بڑی جنگی مہم ان کے بغیر ہی شروع کر دی گئی۔ ایک مشہور میم میں کم جونگ ان کو دوربین سے افق کی طرف دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کا کیپشن ہے: “بیٹا، کیا تم صورتحال کی نگرانی کر رہے ہو؟”
جدید ہتھیاروں کی حسرت: کچھ صارفین نے طنز کیا ہے کہ کم جونگ اُن کے پاس “جنگ کے لیے بہترین کھلونے” (ایٹمی ہتھیار اور میزائل) موجود ہیں، لیکن عالمی میدانِ جنگ میں اس وقت تمام تر توجہ ایران اور اسرائیل پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہوں گے۔
: ایک صارف نے لکھا، “کم جونگ اُن سوچ رہے ہوں گے کہ میں تو صرف بٹن دبانے کی دھمکی دیتا تھا، یہاں تو واقعی میزائل چل رہے ہیں۔” اگرچہ اصل صورتحال انتہائی سنگین ہے، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے آنے والی خبروں اور اسرائیل کی فوجی مہم نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی میمز دراصل عوامی اضطراب (Anxiety) کو کم کرنے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں۔
کم جونگ ان، جو ہمیشہ امریکا کے خلاف سخت بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں، اس بار خود امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے درمیان ایک خاموش مبصر کے طور پر انٹرنیٹ پر “ٹرینڈ” کر رہے ہیں۔ نارتھ کوریا کے تیسرے سپریم لیڈر اور کم فیملی کے رکن کم جونگ ان پر ایران اور اسرائیل کی جنگ سے متعلق دلچسپ میمز بن گئیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن پر مبنی میمز سے بھرے ہوئے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شدید فوجی حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔