امریکا ایران مزاکرات کیوں ناکام ہوے ،اندرونی کہانی سامنے آگئی

امریکا ایران مزاکرات کیوں ناکام ہوے ،اندرونی کہانی سامنے آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان کئی دنوں سے جاری مذاکرات کے دوران کئی اہم امور پر ڈیڈلاک پیدا ہو گیا تھا۔ نئی اطلاعات کے مطابق جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، جس سے دونوں اطراف کے موقف کی تفصیلات واضح ہو رہی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے سامنے تین سخت مطالبات رکھے تھے۔ ان مطالبات میں یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنا، موجودہ افزودہ یورینیم کا امریکا کو حوالہ کرنا، اور تین اہم ایٹمی تنصیبات یعنی فردو، نطنز اور اصفہان کو ختم کرنا شامل تھا۔ بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے اور تہران ایٹمی مرکز کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ابتدائی حملہ سپریم لیڈر ایت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے قریب ہوا

رپورٹس کے مطابق ایران نے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنے سے انکار کر دیا تھا، تاہم ملک نے موجودہ چار سو کلوگرام افزودہ یورینیم میں سے آدھے حصے کو بیرون ملک منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ مذاکرات کا ایک اور دور پیر کے روز ویانا میں شیڈول تھا، لیکن ہفتے کے روز امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی حملے کے باعث یہ دور ملتوی ہو گیا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوتو رہے تھے لیکن ان کی کامیابی کے امکانات محدود تھے جس کی وجہ امریکا کے سخت مطالبات تھے۔مزاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کیوجہ سے  اسرائیل اور امریکا نے ملکر ایران پر حملہ کر دیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *