امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں اور پھر ایران کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔
جیسے ہی مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کشیدہ ہوئی ویسے ہی سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا کی 2026ء کے بارے میں کی گئی پیشگوئیوں کی طرف مبذول ہو گئی۔
1911ء میں پیدا ہونے والی بابا وانگا کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا بھر کے تاریخی اور افسوس ناک واقعات سے متعلق کئی برس قبل ہی سچ پیشگوئیاں کی تھیں۔
ان کے ماننے والوں کے مطابق وانگا نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ 2026ء کے آغاز میں ایک ’عظیم جنگ‘ ہو گی جو مشرق سے شروع ہو گی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے جواب میں ایران جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے، مشرقِ وسطیٰ کی اس صورتِ حال کو سوشل میڈیا صارفین بابا وانگا کی تیسری عالمی جنگ کے بارے میں کی پیشگوئی سے جوڑ رہے ہیں جہاں بابا وانگا کی رواں برس سے متعلق کی گئی پیشگوئیوں میں سب سے خطرناک ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی ہے۔
ان کے مطابق توقع ہے کہ تیسری عالمی جنگ دنیا کے مغربی حصوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گی ، یورپ کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں یورپ کی زمین مکمل طور پر بنجر اور غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔
بابا وانگا نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر دوبارہ ابھرے گا جس کے بعد ایک نیا ورلڈ آرڈر سامنے آئے گا۔
بابا وانگا کی پیش گوئیاں ان کی موت کے کئی سال بعد آج بھی دنیا بھر میں غیر یقینی صورتِ حال کے دوران زیرِ بحث رہتی ہیں۔