امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو دوٹوک الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر بیجنگ نے مشرقِ وسطٰی میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے انتہائی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ سخت بیان ہفتے کی دوپہر وائٹ ہاؤس سے میامی روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا چین ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا، ’اگر چین ایسا کرتا ہے تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان سی این این کی اس تشویشناک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں حالیہ انٹیلیجنس جائزوں سے واقف 3 اہم شخصیات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بیجنگ آئندہ چند ہفتوں میں تہران کو جدید فضائی دفاعی نظام بھیجنے کی تیاری مکمل کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر حکومتی رہنماؤں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جاری علاقائی تنازع کے دوران چین کی جانب سے ایران کو براہِ راست ہتھیاروں کی فراہمی مشرقِ وسطٰی کی جنگ کو مزید شدت دے سکتی ہے اور اس کے وسیع جغرافیائی و سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔ خاص طور پر امریکا اور چین کے تعلقات، جو پہلے ہی تجارتی تنازعات، فوجی کشیدگی اور ایران کی جنگ کی وجہ سے کشیدہ ہیں، مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
چینی ہتھیاروں کی کسی بھی تصدیق شدہ ترسیل سے اس تنازع میں بیجنگ کی شمولیت کی ایک نئی سطح سامنے آ جائے گی، جو جنگ بندی کی کوششوں کے علاوہ ٹرمپ کو مئی کے وسط میں چین کے طے شدہ دورے سے قبل ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال دے گی۔
امریکا اور چین کے درمیان مسابقت اب صرف تجارت اور ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ مشرقِ وسطٰی جیسے اسٹریٹجک خطے میں بھی دونوں طاقتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ ایران، جو امریکی پابندیوں کا شکار ہے، چین کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ اور مشرقِ وسطٰی میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک مہرہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کو چین چیلنج کر رہا ہے۔ ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنا امریکی و اسرائیلی فضائی برتری کو ختم کرنے کی کوشش ہے، جسے امریکا اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔