اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر کھلی دھمکی دی ہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور انہوں نے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ امریکی شراکت دار کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے، ایرانی حکومت اگر ایسی قیادت لاتی ہے جو اسرائیل کو تباہ کرنے، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کو دھمکانے اور ایرانی عوام پر جبر جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتی ہو، تو وہ براہِ راست ہدف ہوگی۔
اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی ممکنہ جانشین کا نام یا مقام اہم نہیں ہوگا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا نام کیا ہے یا وہ کہاں چھپا ہوا ہے، ایرانی عوام کے حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور تبدیل کرنے تک آپریشن جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ممکنہ طور پر ان کا جانشین قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے نام پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اپنے ممکنہ جانشینوں میں 3 سینئر علماء کے نام زیرِ غور رکھے تھے، جن میں ان کے بیٹے کا نام شامل نہیں تھا۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ خامنہ ای کے بعد حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم اب اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نعیم قاسم اب سے ہمارے لیے ایک نشان زدہ ہدف ہیں ، جو کوئی بھی خامنہ ای کے راستے پر چلے گا، وہ جلد ہی خود کو ان تمام لوگوں کے ساتھ پائے گا جنہیں ختم کیا جا چکا ہے۔