ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، انہوں نے اپنا تحریری استعفیٰ آصف علی زرداری کو ارسال کر دیاہے۔
استعفے کے متن میں ایاز شوکت نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے انہیں سوشل میڈیا اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہےاس نئی ذمہ داری کے پیش نظر ان کے لیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے منصب پر بیک وقت فرائض انجام دینا ممکن نہیں رہا، لہٰذا انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی میں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور ایڈووکیٹ جنرل انہوں نے قانون کی بالادستی، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ نئی ذمہ داری کے تقاضے مختلف نوعیت کے ہیں،جن کے لیے مکمل توجہ اور وقت درکار ہوگاسرکاری ذرائع کے مطابق ان کا استعفیٰ موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے اس پر غور کیا جا رہا ہے۔
نئے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے حوالے سے بھی مشاورت کا عمل شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ منصب صوبائی یا وفاقی حکومت کے قانونی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔