ایران کا 10 نکاتی جنگ بندی منصوبہ سامنے آگیا، کیا امریکا اس پر آمادہ ہوگا؟

ایران کا 10 نکاتی جنگ بندی منصوبہ سامنے آگیا، کیا امریکا اس پر آمادہ ہوگا؟

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سامنے آنے والے 10 نکاتی جنگ بندی منصوبے نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف اسے مذاکرات کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ سوال سامنے آیا ہے کہ آیا امریکا کو یہ نکات منظور ہوں گے؟۔

ایران کے 10 نکات کیا ہیں؟

ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے متعدد شرائط رکھی گئی ہیں، جن میں سرفہرست ایران پر عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ منجمد ایرانی اثاثوں کی بازیابی ہے اور جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے خصوصی مالیاتی فنڈز کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کا اعلان اور اس پر فوری عملدرآمد پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، عطاء تارڑ

10 نکات میں جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم اس کے بدلے اسے پرامن جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ یہ نکتہ ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بڑے اختلافات کا سبب رہا ہے۔

منصوبے میں مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کے انخلا، ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کے خلاف تمام عسکری کارروائیوں کے خاتمے اور خطے میں عدم جارحیت کی پالیسی اپنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

10 نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران نے تجویز دی ہے کہ 2 ہفتوں کے لیے محدود تعداد میں جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی، تاہم یہ عمل ایرانی نگرانی میں ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق ایران اور عمان کو فی جہاز 2 ملین ڈالر تک فیس وصول کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جسے تعمیر نو کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے ذریعے ایک قرارداد کی منظوری کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ کسی بھی معاہدے کو قانونی اور بین الاقوامی تحفظ حاصل ہو سکے۔

دوسری جانب  ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسے ’مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، لیکن تمام نکات پر اتفاق فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ  عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو ایران بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دے گا۔

دریں اثنا پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی پیشکش کی ہے، جہاں ممکنہ طور پر 2 ہفتوں کے اندر اعلیٰ سطح کی ملاقات متوقع ہے۔

کیا امریکا اس منصوبے سے متفق ہوگا؟

ماہرین کے مطابق ایران کے پیش کردہ زیادہ تر نکات ایسے ہیں جنہیں امریکا ماضی میں مسترد کرتا آیا ہے، خاص طور پریورینیم افزودگی کی مکمل اجازت، خطے سے امریکی افواج کا انخلا، ایران پر تمام پابندیوں کا فوری خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ بندی میں وزیراعظم کا اہم کردار اور اسکے پیچھے بھی وردی ہے ، محسن نقوی

تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ 10 نکاتی منصوبہ حتمی معاہدہ نہیں بلکہ مذاکرات کی ابتدائی بنیاد ہے، جس میں رد و بدل کے بعد کسی درمیانی راستے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی حالیہ ہفتوں میں عروج پر پہنچ گئی تھی، جس کے باعث خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ اسی دوران عالمی طاقتوں، خصوصاً پاکستان اور چین نے سفارتی کوششیں تیز کیں۔

رپورٹس کے مطابق 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی اس وقت ممکن ہوئی جب  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض 1 گھنٹہ باقی تھا۔ اس دوران ایران نے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *