اسرائیلی حکام نے 40 دن تک بند رکھنے کے بعد مسجد الاقصیٰ کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ صبح سویرے نمازیوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی گئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمانوں نے مسجد الاقصیٰ کا رخ کیا اور نماز پڑھنے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔
ایران امریکا اور اسرائیل کی جنگ جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اس وقت اسرائیل نے تمام تر عالمی ومقامی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوے مسجد اقصی کو طاقت کے زور پر بند کرا دیا تھا اس بندش کے دوران فلسطینی عوام کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کو مسجد کے قریب جانے سے روکا گیا، اور جو لوگ وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے، انہیں اکثر گرفتار کیا جاتا یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
فلسطینی شہریوں کے لیے مسجد اقصی کی بندش کے دوران ان کے لیے یہ انتہائی ذہنی اور جذباتی دباؤ کا باعث رہا۔ مقامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپس نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ عبادت کے حق پر قدغن عائد کرنا فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل نے مسجد اقصی کو بند رکھا
جنگ بندی ہونے کے بعد آج صبح مسجد الاقصیٰ کو کھول دیا گیا جس کے بعد فلسطینی عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور نمازیوں نے بڑی تعداد میں مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی۔ اسرائیلی حکام نے اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس کے دیگر مقدس مقامات بھی کھولنے کا اعلان کیا، جس سے وہاں کے شہریوں میں عارضی سکون اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مسجد الاقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی بندش سے پیدا شدہ کشیدگی نے نہ صرف مقامی فلسطینی عوام پر اثر ڈالا بلکہ خطے میں مذہبی اور سیاسی حساسیت کو بھی بڑھا دیا۔ اس فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ کم از کم عارضی طور پر حالات میں نرمی آئے گی اور عوام کو عبادت کے اپنے بنیادی حقوق کا موقع ملے گا۔