روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے عالمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پرانا عالمی نظام تیزی سے ٹوٹ رہا ہے اور دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایران میں جاری کشیدگی پر اپنے بیان میں روسی وزیر خارجہ نے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سفارت کاری کے بجائے فوجی کارروائی اور دباؤ کا استعمال ایک غیر دیانت دارانہ عمل ہے۔
انہوں نے عالمی قیادت کی موجودہ کشمکش کو ”زندگی اور موت“ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بغیر کسی جواز کے دوسرے علاقوں پر دعوے کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں، لیکن روس اب بھی مغرب سے برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق، موجودہ حالات میں برکس (BRICS) اتحاد اور شنگائی تعاون کونسل (SCO) جیسے فورمز بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں، جو کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کی عکاسی کرتا ہے۔