پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادی کے خلاف مؤثر اقدامات کرتے ہوئے چائلڈ میرج آرڈیننس میں اہم اور سخت ترامیم نافذ کر دی ہیں، جن کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ اور معاشرے میں اس سماجی برائی کا مکمل خاتمہ ہے۔ نئی ترامیم کے تحت اب قانون پر عمل درآمد کو مزید سخت اور فوری بنا دیا گیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11 فروری 2026 کے بعد پنجاب میں 18 سال سے کم عمر کسی بھی لڑکے یا لڑکی کا نکاح کروانا غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق بلا تفریق شہری اور دیہی علاقوں میں ہوگا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ترمیم شدہ قانون کے تحت اگر کم عمری کی شادی کی کوشش یا اس کا انعقاد کیا گیا تو نکاح پڑھانے والے نکاح رجسٹرار کے ساتھ ساتھ لڑکے اور لڑکی کے والدین یا سرپرستوں کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی میں ملوث پائے جانے والے نکاح رجسٹرار کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا، جس کے بعد وہ مستقبل میں نکاح رجسٹریشن کے عمل سے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔
مزید برآں، نئی ترامیم کے مطابق نکاح رجسٹرار اور دونوں فریقین کے گھر والوں کو الگ الگ پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ انہیں دو سے تین سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام دینا ہے کہ کم عمری کی شادی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کے مطابق یہ فیصلہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور تعلیمی ترقی کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ کم عمر بچے بچیوں کو تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔